توشہ خانہ کیس، یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزامعطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ تو ضمانت کا معاملہ تھا،کون سا دلائل پر زیادہ وقت لگنا تھا۔معاون وکیل کا کہنا تھا کہ امجد پرویز تو بیڈ سے اٹھ ہی نہیں سکتے، ڈاکٹر نے 2 دن کا ریسٹ کا کہا ہے۔
جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ ضمانت کا معاملہ چل رہا ہے یہ غلط بات ہے۔معاون وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ایسے حالات تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتے ہیں،اس موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی نہیں، ایسا کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا، میری طبیعت خراب تھی مگر آیا۔چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ انتہائی غلط اقدام ہیں، ٹوٹل 10 منٹ کے دلائل دینے ہیں، اس موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی سینئر وکیل ہیں اور وکالت نامہ بھی ہے، الیکشن کمیشن کے وکلاء موجود ہیں۔
لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میری غیر موجودگی میں سزا دی اب اس کو معطل کرنے کے لیے تیار نہیں،اگر آپ نے ملتوی کرنا ہے تو میں پھر اس کا حصہ نہیں بن رہا۔
چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے جو کیا میں اس کو ایڈمنسٹریٹوسائیڈ میں دیکھوں گا، ہم پیر تک سماعت ملتوی کر دیتے ہیں، ہم بھی ٹرائل کورٹ والا کام کر سکتے ہیں مگر ایسا نہیں کریں گے۔لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ایک شخص 20 روز سے جیل میں ہے، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ ایک شخص کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزامعطلی کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں