قومی اسمبلی سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور توشہ خانہ ریگولیشن ترمیمی بلز بھی منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل 2023 اور توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ترمیمی بل 2023 کی بھی منظوری دے دی ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں متعدد بلز پیش کیے گئے جن میں سے کئی منظور ہوگئے، ایوان میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ترمیمی بل وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیے، توشہ خانہ ترمیمی بل 2023 سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی قادر مندوخیل نے ببرک ادارہ برائے سائنس، آرٹ و ٹیکنالوجی بل 2023 ایوان میں پیش کیا جس کی وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے مخالفت کر دی، ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا، بل کی مخالفت پر قادر مندوخیل اور رانا تنویر حسین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
رہنما پیپلز پارٹی قادر مندوخیل نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے آپ وزارت میں کیا کرتے ہیں، جس پر وزیر تعلیم نے جواب دیا مجھے بھی معلوم ہے کہ کون کیا کام کر رہا ہے، آپ کمیٹی میں جو کام کر رہے ہیں وہ اچھا ہے تو میں بھی کام اچھا کر رہا ہوں، قادر مندوخیل نے بل پر ووٹنگ کی استدعا کر دی۔ایوان میں اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023 بھی پیش کر دیا گیا، بل رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب کی جانب سے پیش کیا گیا، قومی اسمبلی کا اجلاس نماز ظہر کے وقفے کے بعد بغیر کسی کارروائی کے کل تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں