اداکارہ سجل علی بھی اسلام آباد میں بچی پر بہیمانہ تشدد کیخلاف بول پڑیں

لاہور: اسلام آباد میں 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر سول جج کی اہلیہ کے بہیمانہ تشدد پر اداکارہ سجل علی بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اداکارہ نادیہ جمیل نے سجل علی کا ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس میں سجل نے کہا کہ ’ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ خدا کے واسطے چھوٹے بچوں پر ظلم کرنا، ان سے کام کرانا، مشقت کرنا بند کر دیں، چائلڈ لیبر غلط اور غیر قانونی ہے، چائلڈ پروٹیکشن قانون میں یہ کام قابل سزا ہے، آپ میں سے کوئی بھی کسی چھوٹے بچے کو گھر یا باہر کام کرتے یا ظلم ہوتا دیکھیں تو اسے فوری رپورٹ کریں‘۔انہوں نے کہا ہمیں یقین ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو یہ تمام کام کر رہی ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ ہم سب کو مل کر ان پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ بچوں کو تحفظ دے سکیں کیونکہ ان کی عمریں کام کرنے کی نہیں کھیلنے کی ہیں۔
سجل علی کا کہنا تھا کہ آپ جتنا ایسے کیسز کو رپورٹ کرسکتے ہیں کریں، ہم سب مل کر ان سب چیزوں پر آواز اٹھائیں گے تو ہی ہماری آواز وہاں تک پہنچے گی جہاں تک پہنچنا ضروری ہے اور وہ لوگ پھر ایسے کیسز پر ایکشن لے سکیں گے۔اداکارہ نادیہ جمیل نے سجل علی کے پیغام پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سجل وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں میں نے چائلڈ لیبر کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کرنے کا کہا، انہوں نے اس کے جواب میں فوری اپنا پیغام دیا۔واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ لاہور کے جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں