ملکہ برطانیہ الزبتھ کا انتقال، عالمی رہنماؤں کا خراج عقیدت

لندن: 70 سالوں سے برطانیہ کی تخت پر راک کرنے والی ملکہ الزبتھ دنیا سے رخصت ہو گئیں، جس پرعالمی رہنماؤں اور اعلیٰ شخصیات نے ان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انھیں ایک نرم دل ملکہ اور فرانس کی دوست کے طور پر یاد کیا، جبکہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ ملکہ نے دلکش انداز، خوبصورتی اور انتھک محنت کے ذریعے کیے گئے دور حکومت کی وجہ سے دنیا کو اپنا بنایا۔

روسی صدر پوٹن کی جانب سے بیان دیا گیا کہ برطانیہ کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم واقعات ان کی عظمت کے نام سے جڑے ہوئے ہیں۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ایک مشکل دنیا میں ملکہ کے مسلسل فضل اور عزم نے ہم سب کو راحت پہنچائی۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان کی باتوں کو یاد کریں گے، الزبتھ دنیا میں میری پسندیدہ شخصیات میں سے ایک تھیں، اور وہ مجھے بہت یاد آئیں گی۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ملکہ برطانیہ غیر معمولی شخصیت کی مالک تھیں، ان کی زندگی کے آخری ایام اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ ملکہ ان لوگوں کے لیے آخری حد تک کام کر رہی تھی جن سے وہ پیار کرتی تھیں۔

یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین کا کہنا تھا کہ ملکہ حقیقی قیادت کی ایک مثال تھی، ان میں ہر گزرنے والی نسل کے ساتھ ساتھ اپنی روایات سے جڑے رہنے کی صلاحیت بھی تھی۔

نیدرلینڈز کے بادشاہ ولیم الیگزینڈر جو ملکہ الزبتھ کے پانچویں کزن ہیں نے گہرے دکھ، احترام اور بڑے پیارسے ملکہ کی شخصیت کو یاد کیا۔

سویڈن کے بادشاہ کارل گستاف نے کہا کہ ملکہ ہمیشہ سے میرے خاندان کے لیے عزیز رہی ہیں اور ہماری مشترکہ خاندانی تاریخ میں ایک قیمتی کڑی ہے، جبکہ بیلجیئم کے بادشاہ فلپ اور ملکہ میتھلڈے کا کہنا تھا کہ وہ ایک غیر معمولی شخصیت تھیں، جنھوں نے اپنے دور حکومت میں وقار، ہمت اور لگن کا مظاہرہ کیا۔

جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں کے بعد جرمن برطانوی مفاہمت کے لیے ملکہ الزبتھ کی کوششیں ناقابل فراموش رہیں گی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ انہوں نے لوگوں کی خدمت کے لیے ملکہ کی غیر متزلزل، زندگی بھر لگن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ان کی عقیدت اور قیادت کو طویل عرصے تک یاد رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں