سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بحالی کا کام جاری، 46 گرڈ سٹیشنز پر سپلائی بحال

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے، وزیر اعظم بجلی کی سپلائی کی بحالی کو خود سے مانیٹر کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر پاور ڈویژن کے تمام افسران کو سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی کی بحالی کے کام پر مامور کر دیا گیا ہے، ڈسٹربیوشن کمپنیز کے سیلاب سے متاثرہ 81 گرڈ اسٹیشنز میں سے 46 گرڈ سٹیشنز سے سپلائی بحال کر دی گئی ہے، وزیر اعظم کے حکم پر عوام کی سہولت کے لیے ڈسٹربیوشن کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو افسران کے رابطہ نمبرز اخبارات میں اور پاور ڈویژن کی ویب سائٹ پر دے دیئے گئے ہیں۔

ابتدائی طور پر 11 کے وی کے 881 فیڈرز مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے جس سے 9 لاکھ 75 ہزار صارفین کو بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی تاہم اب تک ان متاثرہ فیڈرز میں سے 475 فیڈرز بحال کر دیئے گئے ہیں جس سے 170600 صارفین کو بجلی کی ترسیل بحال ہو چکی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات سے بچاؤ کے لیے اب تک 35 گرڈ سٹیشنز سے بجلی فراہمی شروع نہیں کی گئی ان 35 میں سے 25 گرڈ سٹیشنز بلوچستان، 5 سندھ اور 5 خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں واقع ہیں، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی 220 کے وی 2 ٹرانسمیشن لائنز سبی سے کوئٹہ اور دادو سے خضدار سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئی ہیں۔

دادو سے خضدار ٹرانسمیشن لائن کی بحالی کا کام کل تک مکمل کر لیا جائے گا جس سے متاثرہ علاقوں میں 300 میگا واٹ بجلی کی سپلائی بحال ہو جائے گی جبکہ سبی سے کوئٹہ ٹرانسمیشن لائن جس کے 10 ٹاورز سیلابی پانی کی وجہ سے گر گئے تھے، ان کی بحالی کا کام 10 ستمبر تک مکمل ہو جانے کی امید ہے۔ اسی طرح سبی سے مچھ ٹرانسمیشن لائن پر بھی بحالی کا کام جاری ہے۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی دو سپلائی لائنز، چکدرہ سے بری کوٹ اور سوات سے مٹہ کو 10 ستمبر تک بحال کر دیا جائے گا جبکہ مدین گرڈ سٹیشن کو درال خوار جنریشن پلانٹ کے ذریعے سپلائی دے کر سپلائی بحال کی جائے گی۔

مزید برآں صوبہ سندھ کے 5 گرڈ سٹیشنز اور صوبہ بلوچستان کے 2 گرڈ سٹیشنز تا حال 3 تا 4 فٹ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جن سے بجلی کی سپلائی سیلابی پانی اترتے ہی بحال کر دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں