خاتون مجسٹریٹ کو دھمکیاں، عمران کیخلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

اسلام آباد: جلسے سے خطاب میں پولیس افسروں اور خاتون مجسٹریٹ کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق عمران خان نے ایف نائن پارک میں پولیس افسران اور ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکی دی، ایف آئی آر میں عمران خان کی تقریر کے متعلقہ حصے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق اعلیٰ افسران کو ڈرانے دھمکانے اور ملک میں انتشار و دہشت پھیلانے کے جرائم میں ملزم کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

قبل ازیں جلسے سے خطاب میں پولیس افسروں اور خاتوج مجسٹریٹ کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ یا دیگر دفعات کے تحت کارروائی کیلئے وزارت داخلہ میں اعلیٰ سطح کی مشاورت کی گئی، ایڈووکیٹ جنرل سے دوبارہ رائے طلب کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ میں ایک ہی روز میں دوسرا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت داخلہ اور قانون کے حکام، اعلیٰ پولیس افسران شریک ہوئے۔

اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ وزارت داخلہ نےایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے دوبارہ رائے مانگ لی، ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون کی رائے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق عمران خان پر الگ سے مقدمہ یا شہباز گل کیس کا حصہ بنایا جائے، غور کیا گیا۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان کی خاتون جج کو دھمکیاں انارکی اور تشدد کی ترغیب ہیں، عمران خان خود کو ہر احتساب اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، جج کو کھلی دھمکیوں پر عدالتی ایکشن لازمی ہے۔

شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا، پی ٹی آئی کا بیانیہ دشمن ملک کا ایجنڈا ہے:رانا ثناء

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئی جی اسلام آباد اورپولیس افسران سےپوری معلومات لی ہیں شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا، پی ٹی آئی کا بیانیہ دشمن ملک کا ایجنڈا ہے، منصوبہ بندی کے ساتھ گھٹیا مہم چلائی جارہی ہے۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف پی ٹی آئی نے کمپین کی اور شہدا کے لواحقین کے تقدس کو پامال کیا گیا، شہباز گل نے ایک چینل پر فکس پروگرام کیا اور شہباز گل نے جو کہا وہ دراصل عمران خان اور پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارے سیاستدانوں نے سیاست میں مداخلت پر کہا لیکن کسی سیاستدان نے فوج کو اپنی قیادت کے خلاف نہیں اکسایا، 9 اگست کو شہباز گل کے خلاف مقدمہ درج کر کے 24 گھنٹے میں انہیں گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے بعد شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ مسکراتے ہوئے عدالت آئے اور شہباز گل نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے تشدد کی کوئی بات نہیں کی جبکہ 11 اگست کو طبی معائنہ کیا جس میں کسی تشدد کا ذکر ہے نہ شہباز گل نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے تسلی کی ہے کہ اپنے طور پر بھی معلومات لیں اور بطور وزیر کہتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس حراست کے دوران کوئی تشدد نہیں ہوا۔ 17 اگست کو جب شہباز گل کا دوبارہ ریمانڈ دیا گیا تو ان کی حالت خراب ہوئی لیکن اس میں تشدد کی بنیاد پر صحت کی خرابی سامنے نہیں آئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 6 دن اڈیالہ جیل اور 3 دن پولیس کسٹڈی میں رہے اور مسلم لیگ ن بطور جماعت کسی قسم کے تشدد کے خلاف ہے کیونکہ تشدد آئین کی خلاف ورزی ہے ہم کسی طور پر اس کے حق میں نہیں ہیں۔

رانا ثناء نے مزید کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں ہماری ساری لیڈر شپ جسمانی اور ذہنی ٹارچر کے زیر اثر رہی ہے، اب آپ نے جو ڈرامہ کیا ہے کم از کم قوم سے معافی مانگ لیں۔

رانا ثنا کاوزیرداخلہ ہونا بدقسمتی،شہبازگل پر تشدد نہیں ہوا تو آزادانہ انکوائری کرائیں:فواد

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے رانا ثناء اللہ کا وزیرداخلہ ہونا ملک کی بدقسمتی ہے، وہ خود تشدد کا شکار ہوئے لیکن سیکھا کچھ نہیں، شہبازگل پر تشدد نہیں ہوا تو آزادانہ انکوائری کرائیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی فواد چودھری نے کہا ہے کہ شہباز گل پر تشدد نہیں ہوا توپھر انکوائری سے کیوں گھبرا رہے ہیں، تشدد کے معاملے پر تحقیقات ہونی چاہیے، میں نے کہا تھا انکوائری میں سعد رفیق اور مصطفی نواز کھوکھر کر ڈال لیں، اگر آپ نے ٹارچر نہیں کیا، اسلام آباد پولیس نے نہیں کیا تو پھر کس نے کیا؟

انہوں نے کہا ہے کہ 8 دن ہوگئے ہیں اب ویڈیو چل رہی ہے اگر ویڈیو ٹھیک ہیں تو اچھی بات ہے، شہباز گل نے خود بتایا کہ کس طرح ٹارچر کیا گیا، سی آئی اے کے تھانے میں گھنٹوں پٹی باندھ کر رکھا گیا، پولیس کے چھتر سے اس کی پٹائی کی گئی، ہم کہاں رہ رہے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا ہے کہ آج سے 1400 سال پہلے اسلام نے قیدیوں کے حقوق دیے تھے، شہباز گل سے عمران خان اور ان کے وکیلوں کو ملنے نہیں دیا گیا، مجسٹریٹ صاحبہ پر تو ہم ایڈمنسٹریٹو کارروائی کر ہی رہے ہیں، شہباز گل کا ٹارچر کا کیس بھی کر دیا گیا ہے، کیوں کہ انہوں نے کسٹڈی میں لیا تھا، بائیس اے کے اوپر شہبازگل پر تشدد کے حوالے سے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ میں آپ کے خلاف لیگل کارروائی کروں گا، کل سے یہ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے دھمکی دی ہے، رانا ثنا اللہ کی پنجاب اسمبلی کی تقریر اٹھا کر سن لیں میں انہیں دہرا بھی نہیں سکتا، فواد چوہدری نے رانا ثنا اللہ کی ایک ویڈیو چلوائی، ویڈیو میں رانا ثنا اللہ کمشنر لاہور کو دھمکی دے رہے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا ہے کہ بدقسمتی ہے کہ رانا ثنا اللہ پاکستان کے وزیر داخلہ بنے ہوئے ہیں، رانا ثنا ایک تشدد سے گزرے ہیں لیکن شہباز گل پر تشدد کو انہوں نے عام مسئلہ لیا ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ جس دن یہ عوام کے سامنے جائیں گے انہیں پتہ چل جائے گا، انہیں لگتا ہے کہ یہ پہرے اور بند کمرے انہیں عوام کے غضب سے بچا سکیں گے؟ یہ سیاست نہیں، یہ سارے ڈرے سہمے چہرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم نے جو ترقی کی تھی نام نہاد حکومت اسے برباد کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کمزور دل والے کھڑے نہیں ہوسکتے، جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ کھڑے ہیں، مریم نواز نے جنہیں استعفے کا کہا وہ دونوں بھاگ گئے، عمران خان کے کہنے پر سب نے استعفی دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے کے نوٹس پر ریلی ہوئی یہ صرف عمران خان کر سکتا ہے، کہتے تھے فلاں فلاں کراؤڈ پلر ہیں، تو پھر عمران خان کے جواب میں جلسہ کریں۔

فواد چودھری نے کہا کہ لمپی سکن کی بیماری پاکستان کی سیاست کو بھی لاحق ہے، ایم کیو ایم کی حالت کوئی نہیں رہی، ایم کیو ایم نے لالچ میں آکر کراچی کو لیٹ ڈاون کیا، کراچی کے لوگ ایم کیو ایم کو کبھی معاف نہیں کریں گے، پیپلزپارٹی کو کہتا ہوں کہ وہ ایم کیو ایم کوضم کر دیں۔

پیمرا نے عمران خان کی براہ راست تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پی ٹی آئی چیئرمین کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی۔

پیمرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں ٹی وی چینلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمران خان کی ریکارڈ کی ہوئی تقریر نشر کرسکتے ہیں تاہم براہ راست تقریر اور خطاب نشر کرنے پر پابندی ہے۔

اعلامیے کے مطابق عمران خان کی تقریر پر پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت پابندی ہوگی، پیمرا ترجمان نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی تقاریر میں ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔

اداروں کیخلاف نفرت انگیز تقریر، عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

قبل ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان پر اداروں کیخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ کیلئے درخواست جمع کروادی گئی۔

تفصیلات کے مطابق درخواست جی الیون ٹو کے رہائشی ضیاء الرحمن ایڈووکیٹ نے تھانہ رمنا میں دی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم عمران احمد خان نیازی فوج، عدلیہ اور پولیس افسران کیخلاف عوام کو بغاوت پر اکسا رہا ہے جبکہ پبلک پریشر کر کے اپنی پارٹی اور پارٹی کارکن کے حق میں فیصلے کروانا چاہتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئی جی، ڈی آئی جی اور ملزم شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ صاحبہ کو دھمکی دی کہ آپکے خلاف کیس کروں گا، کسی بھی معزز جج کو دھمکی دینا یا کام سے روکنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

متن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کی تقریر سے عدلیہ اور بار دونوں کے وقار و جذبات کوٹھیس پہنچ رہی ہے اس لیے ملزم عمران نیازی کو گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب ایس ایچ او رمنا شاہد زمان نے کہا ہے کہ درخواست پر فی الحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تقریر ایف نائن پارک میں ہوئی وقوعہ تھانہ مارگلہ کا بنتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں